اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
تحرير : ڈاكٹر سيد شفقت حسين شيرازی
جب 1980 كی دہائی ميں روسی اتحادی حكومت كمزور ہو چکی تهی اور امريكہ دنيا كا فاتح بن رہا تها . اور مشرقی روسی بلاک كو مغربی بلاک نے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور كر ديا ، اس كی سربراهي امريكہ كر رها تها اور بلاک ميں مغربی ممالک اور اس خطے كے امريكی اتحادی شامل تهے . آخر كار مشرقی سوويت يونين 1991 ميں ٹوٹی . اور اسی سال امريكہ نے اسكا اعلان "نيو ورلڈ آڈر" كی شكل ميں كيا کہ اب اس دنيا كے سياه وسفيد كا مالک امريكا هو گا . مشرق وسطى خدا كی نعمتوں سے مالا مال ہے . اور يہیں سے انسانيت كی تاريخ نے جنم ليا ہے اور اديان سماوی كا منبع اور مركز بهی يہی ہے يہیں سے انسانی تہذیبوں نے جنم ليا اور جو اس خطے پر قابض ہو جاتا ہے اسكی ساری دنيا پر حكومت ہوتی ہے۔اس خطے كی اكثريتی آبادى مسلمانوں پر مشتمل ہے .اسی لئے مغربی استعماری قوتوں نے ملكربہت عرصہ پہلےجہان اسلام كے خلاف ايک منحوس سازش كے تحت غاصب صهيونی حكومت كی ارض مقدس فلسطين پر بنيادركهی. رفتہ رفتہ امريكی ومغربی امداد اور حمايت سے صہيونی حكومت ايک بڑی طاقت كے طور پر ابهری. اور فقط فلسطين پر ہی نہیں بلكہ فلسطين كے ہمسايہ ممالک مصر وشام اور اردن ولبنان كی زمينوں پر بهی قبضہ كر ليا . ان مسلم وعرب ممالک نے متحد ہو كر اس صہيونی حكومت (اسرائيل) كے خلاف پچاس ، ساٹھ اور ستر كی دہائيوں ميں جنگیں بهی كيں اور انہيں باقی عرب ومسلم ممالک كی حمايت بهی حاصل تهی. ليكن چونكہ عالم غرب دشمن كی حمايت كر رہا تها. انہيں شكست فاش كا سامنا كرنا پڑا .اور ذلت ورسوائی كی نوبت يہاں تک پہنچی كہمصر واردن نے تو زمين كے عوض غاصب صہيونی وجود كو تسليم كرتے ہوئے سفارتی تعلقات بهی بنا لئے. ليكن شام ولبنان نے مقاومت كا راستہ اختيار كيا. مسلم وعرب عوام اور حكمران تو يہ بات كہنے لگے كہ اسرائيل ايک ناقابل شكست طاقت ہے.كيونكہ خطے كے اكثر حكمران امريكى غلام تهے اس لئے دشمن كے ايجنڈے پر كام كر رہے تهے. وه خود تو جذبہ حب الوطنی اور عزت وغيرت ، شرف وشجاعت اور صداقت وشراف وفاداری جيسی اسلامی وانسانی اقدار كے امين نہیں تهے بلكہ انہوں نے ايسے اقدار وجذبا ت كو كچلنے ميں بهی كوئی كسر نہیں چھوڑی۔
1980 كے عشره كی ابتداء ميں اسرائيل فلسطينی مجاہدين كے تعاقب كے بہانے پورے ملک لبنان پر قابض ہوگیا. اور بزدلی كی يہ حالت تهی كہ بيروت اور ديگرشہروں ميں اس وقت لبنانی شكست خورد وذليل عوام واكابرین نے اسرائيلی فوجيوں اور ٹینکوں كی راه ميں پهول اور چاول نچهاوركئے. ايسے نازک ترين دور ميں علماء جبل عامل وبقاع كے تربيت يافتہ اور مدرسہ كربلا سے عشق ركهنے والى مختصر سی جماعت حزب الله لبنان كی شكل ميں ميدان ميں اترى. كہ جنكا اعتماد فقط اور فقط اللہ تبارك وتعالى كی ذات پر تها. انهوں نے كسی مادی خواہش يا دنياوی منصب كے لئے نہیں بلكہ مادر وطن كو صہيونی نجس پنجوں سے آزاد كرانے اور دين مبين اسلام كے اقدار كی احياء كے جذبہ كے تحت قيام كيا. اور تعليمات قرآن واهل البيت عليهم السلام كی راہنمائی اور جذبہ جہاد وشهادت سے مسلح ہو كر انهوں نے بزدل صهيونی فوج كی حقيقت دنيا كو دكها دی. وه اسرائيلی فوج جسے سب عرب ومسلم ممالک ملكر شكست نہ دے سكے . بلكہ اسے" قوة لا تقهر" نا قابل شكست طاقت تسليم كر چكے تهے. حزب الله لبنان كے مجاہدين نے اسے دوبار شكست دی ايک بار مئی 2000 جب اسرائيل كو لبنان سے بهاگنے پر مجبور كيا اور دشمن ذليل ورسواء ہو كر جنوبی لبنان سے نكلا. اور دوسری بار جب اسرائيليوں نے جولائی 2006 ميں لبنان پر جنگ مسلط كی اور اعلان كيا كہ وه حزب الله كی پہلی اور دوسرے درجے كی قيادت كو قتل كريں گے اور مقاومت كی عسكری طاقت تباه كر ديںگے ،جنوبی لبنان كی نہر الليطانی تک كے علاقے پر قبضہ كركے وہاں پر اپنے لئے امنى بلت بنائيںگے. اور اسرائيلی فوجيوں كو آزاد كرائيں گے. ليكن 33 روزه گھمسان كي جنگ ہوئی. يہ عرب اسرائيل ايسی جنگ تهی جس ميں خليجی اور عرب ممالک اسرائيل كاساتهـ دے رہے تهے حتى كه لبنان كے وزير اعظم فؤاد سنيورا اور اسكے سعد الحريری پارٹی كی بهی دلی تمنا تهی كہ حزب الله كو مكمل طور پر كچل دياجائے. اور انكی حكومت كے وزير احمد فتفت تو جنوب ميں اسرائيلی حملہ آورفوجيوں كواپنےہاتھ سے چائے پلاتے نظر آئے. حزب الله نے اس جنگ ميں تنہا اسرائيل كو نہیں بلكہ اس كے ماوراء سب قوتوں كو ذلت آميز شكست سے دوچار كيا.
كيا حزب الله دہشت گرد جماعت ہے يا محب وطن جماعت؟
دہشتگرد جماعتيں عموما عسكری طاقت سے اپنے وطن اور ہم وطنوں كو اپنی دهشتگردی كا نشانہ بناتے ہیں اور پورے ملک يا ملک كے بعض حصوں پر خلاف قانون قبضہ كر كے حكومت كی رٹ كوچيلنج كرتے ہیں.
ليكن اگر حزب الله كو تعصب كی عينک اتار كر ديكهيں تو ديكهيں گے كہحزب الله كی جذبہ حب الوطنی اور ايثار كا يہ مقام ہے كہ مسلسل 18 سال غاصب اسرائيل كے خلاف جنگ لڑی اور وطن عزيز كی آزادی كےلئے ہزاروں شهداء كے علاوه ديگر بهی ہرقسم كی قربانياں ديں ، ليكن جب مادر وطن كو آزاد كرالياتو اسكے مستقبل كا فيصلہ تمام هم وطن سياسی قوتوں كے اختيار ميں ديديا . خود اپنی حكومت يا خلافت يا ولايت قائم نہیں كی. حتى كہ وطن کے وه خائن اور مجرم افراد اور گروه جو اسرائيل كيساتهـ ملكر حزب الله كے خلاف جنگ كرتے رهے. انكے ساتهـ بهی حزب الله كا رويہ وهي تها جو سركار خاتمی مرتبت حضرت محمد مصطفى صلى الله عليه وآله وسلم نے فتح مكه كے بعد اختيار كيا تها اور مسلسل جنگیں كرنے والے كفار سے فرمايا تها "جاؤ ہم نے تمہیں آزاد كر ديا " اسى سيرت مصطفى ص پر عمل كرتے ہوئے 25 مئی 2000 كو جب اسرائيل ان خائنوں كو چهوڑ كر بهاگ نكلا تو حزب الله كے قائد فرزند رسول علامہ مجاہد سيد حسن نصرالله نے بهی اپنے جد والے اعلان كو ہی دهراياتها.
ہاں حزب الله اسرائيل كی نگاه ميں اور امريكہ كی نگاه ميں ايک دهشت گرد جماعت ہے كيونكه اس كی دهشت اور خوف سے اسرائيل ، امريكہ اور انكے فلک ميں گھومنے والے افراد اور حكمرانوں كی نينديں حرام هو چكی ہیں.
حزب الله لبنان كی ايک مضبوط سياسی پارٹی ہے جو لبنانی قوانين كے مطابق اليكشن ميں شركت كرتی ہے اس كاپارليمنٹ كے اندر مضبوط دھڑا ہے. اور انكی پارٹی كے کئی ايک وزير بهی لبنان حكومت ميں ہیں. حزب الله فقظ وطن كيلئے دفاعی جنگ پر ايمان ركهتی ہے. اور ملک كے داخلى سياسي اختلافات ميں كبهی بهی عسكری قوت كو استعمال نہیں كيا.
حزب الله شام حكومت كی حمايت ميں شامی عوام اور حكومت كے مابين داخلى جنگ ميں كيوں وارد ہوئی؟
شام ميں جو خانہ جنگی 2011 ميں شروع ہوئی تمام تر شواہد دلالت كر رہے ہیں کہ يہ جنگ شام حكومت اور شامی عوام كے مابين نہیں تهی. 80 سے زياده ممالک سے تكفيری جنگجو اور انكے علاوه وه كمانڈوز جن كو عراق كے ابو غريب نامی جيل , امريكہ كی بدنام زمانہ گوانتا نامو نامي ٹریننگ اور برين واشنگ سنٹر اور اسی طرح سعودی وخليجی حتى كہ ڈیره اسماعيل خان جيل سے بهاگنے والے دهشتگردوں كو بهی شام بهيجا گيا. شام حكومت کا قصور يہ تها
1- اسرائيل سے سفارتی تعلقات قائم كرنے پر راضی نہیں تها.
2- لبنان وفلسطين كی آزادی كی تحريكوں اور مقاومت وانتفاضہ كی پناہ گاه تها اور انكی ہر لحاظ سے مدد كرتا تها اور عرب دنيا ميں قلعہ مقاومت كے نام سے معروف تها.
3- ايران كے ساتهـ اسٹرٹیجک تعلقات تهے جنكو قطع كرنے پر راضی نہیں تها.
4- امريكی اور مغربی بلاک كا حصه بننے سے انكار كر دياتها.
مقاومت كے هراول دستہ حزب الله سے شكست كے بعد امريكه ومغربي بلاک ، اسرائيل اور خطے ميں انكے شركاء سعوديہ ، قطر اور تركی كے ساتهـ ملكر كر قلعه مقاومت كو منهدم كرنے كاپروگرام بنايا گيا. اور تمام تكفيری مسلح گروه انكا نام جبهة النصرة ہو يا داعش ، فتح الاسلام ہو يا جيش الاسلام ، جند الشام ہوں يا احرار الشام انكی قدر مشترک يہ ہے كہ كرائے كے قاتل ہیں. تكفيري عقيدہ ركهتے ہیں اور وحشت وبربريت ميں اپنی مثال آپ ہیں. انكا كام شام كی تباہی اور اسرائيل كا دفاع ہے. اسی لئے انكے زخميوں كا علاج اسرائيلی ہسپتالوں ميں ہوتاہے . انہیں لوجسٹک خدمات اور اہم عسكری معلومات اسرائيل فراهم كرتا ہے۔
حزب الله كے شام ميں وارد ہونے كے اسباب مندرجہ ذيل ہیں۔
1- قلعہ مقاومت شام كے خلاف حزب الله كے دشمنوں كی مسلط جنگ ميں ان کا ٹارگٹ فقط شام نہیں بلكہ حزب الله ہے كيونكہ شام حكومت گرانے كے بعد حزب الله كے سامنے اسرائيل اور پشت پر اسرائيل ايجنٹ جو شراست اور حقد ميں يہودیوں سے بهی بد تر ہیں وه آ جاتے ہیں اور وه 2011 ميں شورش كے اغاز پر اعلان بهی كر چكے ہیں " لا ايران ولا حزب الله " يہ اب نہ ايران رہےگا نہ حزب الله، تو حزب الله نے وه جنگ جو اسے كل لبنان كے گلی كوچوں ميں تنہا لڑنا تهي اب وہی جنگ اپنے شركاء كے ساتهـ ملكر كر لڑ رہی ہے. اور دوسری طرف اپنی سرزمین كو ميدان جنگ بننے سے بهی بچا ليا.
2- تكفيری وہابی گروہوں اور زہران علوش نے اپنے خطابات ميں ايک خطرناک اعلان كيا تها. جس ميں اس نے رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم كی نواسی اور حضرت امام على عليہ السلام كی شہزادی ثانی زهراء حضرت زينب عليها السلام سے مخاطب ہو كر تمام مسلمانوں كی غيرت كوللکارا تها اور كہا تها " سترحلين مع النظام " كہ ای زينب اس بشار الاسد كی حكومت كے بعد تم بهی نہیں رہو گی" اور ديواروں پر چاكنگ بهی كروائی تھی. حزب الله كے مجاہدین اور انكے قائد كی غيرت وحميت كيسے برداشت كرتی كہ وه زنده ہوں اور خاندان رسول خداكیبےحرمتي هو. تو سيد مقاومت علامه سيد حسن نصرالله نے اعلان كر ديا " كہ دوسری بار حضرت زينب كوقيدی هرگزنہیں ہونےدينگے". اور جب ترک حكومت نے اپنے سابق بادشاه ظاهر شاه كہ جس كی قبر شام كی سرزمين ميں ہے اسكي حفاظت كيلئے فوجی دستے بهيجے اور شام كی سرحدوں كے خلاف ورزی كی تو یہی جواز بناياتها كه انكی جد كی مزار كوداعش اور ديگر مسلح تكفيری گروہوں سے خطره ہے. اس لئے تركی فوجی دستے اسكی حفاظت كيلئے وارد هوئے ہیں كيونكہ يہ كچھ عرصہ پہلے اصحاب رسول خدا حضرت خواجہ اويس قرني، حضرت عمار بن ياسر اور حصرت حجر بين عدی اور حضرت ابي بن كعب كے مزارات كو مسمار كر چکے تهے. تو ان دنوں سيد حسن نصرالله نے حزب الله كی شام ميں مداخلت پر اعتراض كرنے والوں كو جواب دياتها كه اگر رجب طيب اردغان اپنے جد كی قبر بچانے كيلئے فوجی دستے بهيج سكتا ہے تو دختر رسول خدا اور شريكة الحسين كے روضہ اقدس كے دفاع كيلئے ہمیں بهی فوجی دستے بهيجنے كا اختيار ہے. حق تو يہ ہے كہ دنيا بهر كے مسلمان انكے رسول كی بيٹی كے حرم كا دفاع كرنے والون كا شكریہ ادا كريں.
3- حزب الله وہاں كی أئينی ودستوری اور عوام كی منتخب حكومت كی مرضی اور اتفاق سے اس ملک ميں داخل هوئی ہے. اور پهر بهي اس پر شور مچاياجا رها ہے. دوسری طرف سعودی بين الاقوامي قوانين كی خلاف ورزی كرتےهوئےہمسايہ غريب اسلامی ملک يمن كی اينٹ سے اينٹ بجا ديں تو يہ دوسرے ممالک ميں مداخلت نہیں ہوتی. اور اگرملک شام وعراق اور ليبياكی تباہی كے لئے مسلح دهشتگردوں كی ہر قسم كی مدد كريں اور فضائي حملے كرين تو يہ مداخلت نہیں ہوتی.
4- حزب الله كا اصلی دشمن اسرائيل ہے جس نے انكے ملک كے بعض حصوں ہر ابهی بهی قبضه كر ركها ہے. جب اسرائيل شام كی حدود ميں كهلم كهلا حملے كرے گا اور دهشتگردوں كوسپورٹ كريگااور مقاومت كو كمزور كرنےكى كوشش كرےگاتو حزب الله بهی اپنے قومي وملي مفادات كبلئےہر ميدان مين اترے گی.
5- شام حكومت نے2006 كی 33 روزه جنگ ميں حزب الله كی ہر لحاظ سے مدد كی تهي. اور لبناني وفلسطينى مقاومتكى دفاعي وسپلائرلائن کاكرداربهى ادا كر رهى تهي ، تو آج حكومت شام پر اس مشكل وقت ہے اس میں حزب الله اسےكبهى تنہا نہیں چھوڑ سكتی يہ حزب الله كی نظرياتی تربيت اور اسلامی واخلاقی اقدار كے خلاف ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲